ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مختلف مذاہب کی بنیاد پر قانون بنانا مسلم پرسنل لاء میں مداخلت لاء کمیشن آف انڈیا کے نام جاری مکتوب میں مولانا محمد ولی رحمانی کااظہارخیال

مختلف مذاہب کی بنیاد پر قانون بنانا مسلم پرسنل لاء میں مداخلت لاء کمیشن آف انڈیا کے نام جاری مکتوب میں مولانا محمد ولی رحمانی کااظہارخیال

Wed, 01 Aug 2018 12:10:49    S.O. News Service

نئی دہلی یکم اگست (ایس او نیوز؍پریس ریلیز )اس ملک کے باشندے الگ الگ مذہب ، کلچراور الگ روایات کے ماننے والے ہیں اور وہ اپنے اپنے طریقے سے زندگی گذار رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان میں کوئی ناہمواری یا دشواری نہیں ہے۔ اس لئے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں بھی مذہبی روایات اور سماجی کلچر گورنمنٹ کاموضوع نہیں ہے۔ اس لئے حکومت کو ایسی چیزوں میں دخل نہیں دینا چاہئے۔نہ ہی لاء کمیشن کو مشورہ دینا چاہئے کہ حکومت ان چیزوں میں ہاتھ ڈالے۔ان خیالات کا اظہارآل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے لاکمیشن کے نام جاری اپنے مکتوب میں کیا ہے۔انہوں نے لاء کمیشن کے چیرمین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے21؍مئی2018 کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی یونیفارم سیول کوڈ قابل عمل نہیں ہے۔ مگر یہ ہوسکتاہے کہ مختلف مذاہب کی اچھی باتوں کو لے کر ایک مشترک قانون ملک میں نافذ کیا جائے۔ آپ نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوؤں میں وراثت کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ فیملی کا بڑا آدمی اگر زندگی میں چاہے تو جائیداد تقسیم نہ کرکے کسی ایک شخص کے حوالے کردے۔ لیکن مسلمان اپنی جائیداد میں ایک تہائی کی ہی وصیت کرسکتا ہے،پوری جائیداد کسی کونہیں دے سکتا۔ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام کی یہ بات مجھے پسند آتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ قانون ہندوستان کے تمام لوگوں کے لئے بنا دیا جائے۔ اسی طرح ہندو سماج میں ایک بیوی کاقانون ہے، یہ بہت بہتر ہے، اس قانون کو بھی ملک کے تمام افراد پر نافذکردیا جائے۔ لیکن جسٹس صاحب! آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ آپ کے اس ذہن سے اتفاق نہیں رکھتا ہے، یہ انداز فکر آئین ہند کی بنیادی دفعات کے خلاف ہے۔ ملک میں ایک نئی بے چینی پیدا کرنے والا ہے اورآپ کا یہ ذہن یونیفارم سیول کوڈ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس ملک میں الگ الگ مذاہب ، روایات اور کلچر پر عمل کرنے والے لوگ بستے ہیں۔یہ اس ملک کا حسن ہے، آپ اسے یک رنگی کی طرف لے جاکر ملک کا حسن ختم نہ کیجئے۔مولانا رحمانی نے لکھا ہے کہ ہندو وراثت کاقانون پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے۔ پارلیمنٹ جب چاہے اس میں ترمیم کرسکتی ہے، لیکن اسلامی قانون وراثت کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے، جو نہ صرف صدیوں سے مسلمانوں کے عمل میں محفوظ ہے، بلکہ آئین کی بنیادی حقوق کی دفعات میں بھی اس کی حفاظت کاوعدہ کیا گیا ہے۔ایک بیوی کے سلسلہ میں مولانانے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ ایک سے زیادہ4 شادی تک کرنے کی اجازت قرآن مجید نے ایک شرط کے ساتھ دی ہے، کہ بیویوں کے درمیان پورا انصاف کرنا ہوگااور جو یہ سمجھتا ہے کہ انصاف نہ کرسکے گا، اسے صرف ایک شادی کی اجازت دی گئی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سے زیادہ شادی، انسان کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اسی لئے گرچہ ہندوؤں میں ایک شادی کا قانون موجود ہے، پھر بھی ہندوؤ ں میں ایک سے زیادہ شادی کا تناسب مسلمانوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ لاء کمیشن کے چیرمین کومولانانے یہ بھی لکھا ہے کہ میری رائے ہے کہ حکومت کو مشورہ دیتے وقت آپ کو ایسی انسانی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ آپ حکومت کو ضرور رپورٹ دیں ،مگر ایسا نہ ہو کہ آپ کی رپورٹ ملک میں نئے اختلاف اورنئی ناہمواری کا ذریعہ بن جائے۔ 


Share: